نئی دہلی،11؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) بابری مسجد اور رام مندر معاملہ پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہونی تھی لیکن ثالثی کمیٹی کے ذریعہ پیش کردہ رپورٹ دیکھنے اور کمیٹی کے چیئرمین کے ذریعہ ثالثی کا عمل پورا کرنے کے لیے 15 اگست تک کا وقت دیے جانے کے مطالبہ کے بعد سماعت 15 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ انتہائی حساس ایودھیا معاملہ پر آج کی سماعت ملتوی ہونے سے پہلے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل شدہ تین رکنی ثالثی کمیٹی کی رپورٹ دیکھی اور کہا کہ اب اس کیس کی سماعت 15 اگست کو ہوگی۔
ذرائع کے مطابق سابق جسٹس ایف ایم کلیف اللہ کی صدارت والی سہ رکنی ثالثی کمیٹی نے ایک سیل بند لفافے میں عبوری رپورٹ عدالت کے حوالے کی۔ اس رپورٹ میں پینل اس معاملے کے حل کو لے کر پرامید نظر آیا اور اس نے کہا کہ یہ ایک طویل عمل ہے اور اس کو وقت دیا جائے تو ایودھیا معاملہ کا عدالت کے باہر حل نکالا جا سکتا ہے۔ عدالت نے بھی رپورٹ دیکھنے کے بعد کہا کہ ثالثی کمیٹی صحیح سمت میں جا رہی ہے اور اسے وقت ملنا چاہیے۔
اس درمیان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اس رپورٹ میں شامل کسی بھی بات کو ظاہر کرنے سے منع کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں مزید کیا کچھ لکھا گیا ہے اور ثالثی کا عمل کہاں تک پہنچا، اس بارے میں تفصیل نہیں بتائی جا سکتی کیونکہ یہ سب رازداری طلب ہے۔ قابل غور ہے کہ ثالثی کمیٹی تشکیل دینے کے بعد ہی عدالت عظمیٰ نے واضح کر دیا تھا کہ ثالثی کے عمل کو میڈیا سے دور رکھا جائے گا اور کچھ بھی رپورٹ نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ 8 مارچ کو ثالثی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ ایودھیا مسئلہ کا کوئی ایسا حل نکل سکے جو سبھی کے لیے قابل قبول ہو۔ اس سہ رکنی کمیٹی میں جسٹس کلیف اللہ کو سربراہ بنایا گیا تھا اور آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر کے ساتھ سینئر وکیل شری رام پنچو کو شامل کیا گیا تھا۔ قابل غور یہ بھی ہے کہ ایودھیا معاملہ کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس دھننجے وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنذیر کی پانچ رکنی آئینی بنچ کر رہی ہے۔